حضرت عمر بن خطاب کی وفات 26ذوالحجہ 23 ہجری بمقام مدینہ منورہ کو ہوئی۔ نا کہ یکم محرم الحرام حضرت عمر کی تاریخ وفات کا دن ہے ۔ ملاحظہ کیجیے اہل سنت کی 25 معتبر کتب جن میں واضح طور پر حضرت عمر بن خطاب کی وفات ذوالحجہ کی 26 ثابت ہے اور 29 ذوالحجہ کو حضرت عثمان بن عفان کے ہاتھ پر اہل مدینہ انصار کا بیعت کرنا اور خلافت یعنی حکومت کو انکے حوالے کرنا ثابت ہے۔ یکم محرم الحرام حضرت عمر بن خطاب کی وفات صرف اور صرف اسلامی مسالک کے درمیان فتنہ و فساد برپا کرنے اور لوگوں اور عوام الناس کو جلوس امام حسین ع اور تعلیمات و افکار و مجالس امام حسین علیہ السلام سے دور کرنا اور غلط فہمی اور غلط پروپیگنڈے کی بنیاد پر شیعہ اور سنی مسالک میں نفرت پیدا کرکے انکو ایک دوسرے کے خلاف کرکے انکو آپس میں لڑوانآ ہے۔ اور صحابہ کرام کو اہلبیت عظام کے مقابلے میں لے کر آنا ہے۔ جوکہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ لہذا ہوشیار رہیں۔ اسلامی کتب کا مطالعہ اور تحقیق کریں۔ اور اس بحث اور فتنہ و فساد برپا کرنے سے خود بھی اجتناب کریں اور دوسروں کو بھی اس کام سے روکیں۔۔ ملاحظہ فرمائیں اہل سنت کی 25 معتبر کت...